جہانگیرضیاء

پاکستان میں گزشتہ بیس سالوں میں میڈیا نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ہمارے ٹی وی چینلز ہیں۔ پچھلے دور کی بات ہے کہ صرف ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا۔ اُسی پہ زندگی کے تمام شعبہ جات و موضوعات کے حوالے سے پروگرامز نشر کیئے جاتےتھے۔ خبریں، کھیل، انٹرٹینمنٹ، بچوں کے کارٹون، سیاسی ٹاک شوز، ڈرامے، گانے اور فلمیں وغیرہ۔ مگر پھر پاکستان میں  میڈیا ترقی کرنے لگا اور تیزی سے نئے چینلز عوام کو تفریح، معلومات اور  خبریں فراہم کرنےلگے۔  میڈیا کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو ہر شعبہ سے منسلک  انفرادی طور پر خصوصی چینلز کھول دئیے گئے۔ یعنی خبروں کا الگ چینل، ڈراموں کا الگ اور اسی طرح کھیل، کارٹون، چٹخارے  اور اسلام کی دعوت اور دینی معلومات  کےلیئے الگ چینلز موجود ہیں۔ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے چینلز کی بھی ایک طویل فہرست ہے، جو اس وقت  ملک میں بہت بڑے پیمانے پر کام رہے ہیں۔ عوام  میں بھی یہ چینلز بےحد مقبول ہیں۔

اس وقت پاکستانی  ناظرین کو اپنے گھر پر ٹی وی میں کھانے پکانے اور چٹخاروں کے چینلز سے لے کر کھیل کود تک تمام چینلز مل جائیں گے۔ مگربدقسمتی سے پاکستانی میڈیا میں تعلیم کو فروغ دینے اور نوجوانوں میں علم اور معلومات میں دلچسپی پیدا کرنے اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے  کے لیئے کوئی ٹی وی چینل موجود نہیں ہے۔  مہذب قومیں تعلیم کو اہمیت دیتی ہیں اور اپنی نوجوان نسل  کے روشن مستقبل کےلیئے ان کے اندر علم سے محبت اور شعور پیدا کرتی ہیں۔ بہترین روزگار کا دارومدار بھی اچھی تعلیم و تربیت پر ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں ان مثبت اقدامات کا فُقدان ہے۔ لہذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پاکستانی میڈیا میں تعلیم سے منسلک کئی ٹی وی چینلز کا آغاز کیا جائے۔ جہاں مختلف جامعات کے داخلوں کی تاریخ  اور نئے طلبہ کےلیئے داخلے کا طریقہ کاراور مراحل،  امتحانات کی تاریخ اور نتائج ،  فیس اور  سیمسٹر کے حوالے سے مکمل  معلومات فراہم کی جائے۔

آج کل طلبہ سوشل میڈیا کے مختلف پیجز کے ذریعے جامعات، کالجز اور اسکول کی خبریں حاصل کرتےہیں۔ مگر بعض اوقات ان پیجز پہ غلط اور من گھڑت خبریں بھی گردش کرتی ہیں جس کی وجہ سے طلبہ غلط فہمی کا شکار ہوجاتےہیں۔ لہذا کوئی ایسا ٹی وی چینل طلبہ کی سہولت کےلیئے موجود ہونا چائیے جو مستند اور مصدقہ خبریں فراہم کرے۔ ہمارے معاشرے میں عموماً پوش اور مالی طور پہ مستحکم گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بچپن سے ہی  زندگی کی تمام سہولیات اور آسائشیں میسر ہونے کی وجہ سے تعلیم  پہ زیادہ زور نہیں دیتے۔ ہمارے یہاں غریب نوجوانوں پہ  گھر کا بوجھ ہونے کے باعث وہ زیادہ محنتی اور ہنرمند ہوتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر محنت نہیں کی تو مستقبل تاریک ہوگا۔ مگر امیر گھرانوں کے نوجوان اس فکر سے آزاد ہوتےہیں۔ میٹرک اور انٹر سے فارغ التحصیل طلبہ میں کچھ کر دکھانے کا ہروقت ایک طوفان بپا ہوتا ہے۔ مگروہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرپارہےہوتے کہ کونسا شعبہ ان کے لیئے بہتر رہےگا۔ چناچہ وہ مختلف لوگوں کی مختلف رائے سن کر عجیب کشمکش میں مبتلا ہوجاتےہیں۔ اُن طلبہ کی آسانی کےلیئے ٹی وی میں مختلف پروگرامز نشر کرنے چاہییں۔ جس میں میٹرک اور انٹر کے بعد تعلیم کے تمام شعبہ جات کی مکمل آگاہی فراہم کی جائے جس کے ذریعے وہ اپنے ہدف کا تعین کرسکیں، اپنی دلچسپی کے مطابق اپنے شعبہ کا انتخاب کرسکیں۔

ہمارے میڈیا میں قومی اور مذہبی تہواروں کی مناسبت سےخصوصی نشریات اور پروگرامز تو نشر کیئے جاتےہیں مگر اس بات کی تاریخ سے مکمل آگاہی فراہم نہیں کی جاتی کہ یہ تہوار کیوں منائے جاتےہیں اور ان کا کیا مقصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کے بیشتر طلبہ کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ 23مارچ کی کیا اہمیت ہے، 6 ستمبر کیوں منایا جاتا ہے۔ 25 دسمبر کو کیا ہوا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ لہذہ یہ ذمہ داری بھی تعلیمی ٹی وی چینلز پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ آسان الفاظ میں طلبہ تک ان تمام معلومات کی رسائی ممکن بنائی۔

Previous articleمعاشرہ، سیکس اور ریپسٹ
Next articleافغان سہ فریقی مذاکرات، کس کی جیت کس کی ہار؟