وقاص احمد

آپ لوگوں نے فلم دی ڈیکٹیٹر دیکھی ہے؟ نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیے گا۔ یہ مشرق وسطیٰ کے ایک فرضی ملک “واڈیا” کے ڈکٹیٹر ایڈمرل جنرل آلہ دین پر بنائی گئی ایک کامیڈی فلم ہے۔ اس فلم میں الیکشن کا ایک کلپ اسی مضمون کے کومنٹ سیکشن میں پیش کر رہا ہوں تاکہ قارئین کے آتش شوق کو بھڑکایا جاسکے۔

اگر آپ کو فلم بینی کا شوق نہیں ہے تو بھی کوئی بات نہیں۔ آج کل مملکت خداداد بھی سلطنت واڈیا کا سماں پیش کر رہی ہے اور اس پر بھی ایڈمرل جنرل آلہ دین کی طرح کا ایک مضحکہ خیز کردار مسلط ہے۔

پاکستان میں الیکشنز کی تاریخ کچھ ایسی قابلِ رشک ہرگز نہیں رہی مگر شاید تاریخ کا پہیہ مسلسل ایک ہی جگہ گھوم گھوم کر اور گھس گھس کر اتنا چکنا ہوگیا ہے کہ اب تو اضافی گریس تیل کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ بھلے وقتوں (80-90 کی دہائیوں) میں الیکشن میں کی جانے والی فنکاریوں کے تمام کردار پس پردہ رہتے تھے، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں کی ڈوریاں بھی نظر نہیں آتی تھیں۔ کھیل ایسا عمدہ پیش ہوتا تھا کہ حقیقت کا گمان گزرتا تھا. امیدوار اتنے تگڑے ہوتے تھے کہ کانٹے دار مقابلہ چلتا اور پھر جسے جتوانا مقصود ہوتا اسے خاموشی سے جتوا دیا جاتا۔

پھر آگیا آج کل کا دور۔ فنکاروں میں خود نمائی کا شوق بڑھ گیا۔ پیچھے بیٹھ کر پتلیاں نچانے میں چسکا تو تھا لیکن پہچان قائم کرنے کا نشہ تو کچھ اور ہی ہے اسی لیے سیریل کلرز اپنی دھاک بٹھانے کے لیے اپنی نشانیاں چھوڑتے ہیں۔ تو پھر آج چشم فلک سلطنت واڈیا میں ایسا پتلی تماشہ دیکھ رہی ہے جس میں فنکار، اس کی ڈوریاں اور ناچتی پتلیاں سب کچھ پردہ سکرین کے سامنے ہے، کچھ بھی پس پردہ نہیں۔ یہاں فنکاروں کا ترجمان عام انتخابات کے بعد کھلے عام اعلان کرتا ہے کہ “ہم نے دشمن کو ووٹوں سے شکست دے دی”. ایک پیج ایک پیج کی گردان صبح سویرے مرغ کی پہلی بانگ سے شروع ہوتی ہے اور رات گئے تک چلتی ہے۔ بیچ بیچ میں “دشمنوں” کی طنابیں کسنے اور ڈھیلی کرنے کا “اسٹرٹیجک کام” اتنی خوش اسلوبی سے کیا جاتا ہے کہ میٹرک پاس بچوں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مقدمے کی فلاں دن ہونے والی سماعت میں فلاں فریق کی ضمانت منظور ہوگی یا نہیں۔ اگلی گرفتاریوں کی لسٹ ٹی وی چینلز پر پڑھ کر سنائی جاتی ہے اور پھر اسے انصاف و احتساب کہنے پر اصرار بھی کیا جاتا ہے۔ مملکت واڈیا میں سسٹم اتنا شفاف ہوچکا ہے کہ فنکاروں سے لیکر پتلیوں اور عدلیہ سے لیکر ’’دشمنوں‘‘ کا ایک ایک فیصلہ اور ایک ایک چال ایڈوانس میں ہی محلے کے تھڑوں پر بیٹھے بابوں کو بھی معلوم ہوتی ہے۔

لوگ کہتے تھے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو چاہیے تھا کہ 2018 کے ’’تاریخ شفاف اور منصفانہ‘‘ الیکشنز سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد ہونے والی سازشوں اور ان سازشی کرداروں کو بے نقاب کرے۔ اور میں انہیں کہتا ہوں کہ ’’بھائی نقاب تو میں اس کا الٹایا جائے جس نے نقاب پہنا ہو۔ جس نے نقاب ہی نا پہنا ہو اس کے بارے میں کوئی کیا انکشاف کر سکتا ہے‘‘۔ ڈھٹائی کا عالم دیکھیے کہ یورپی یونین کی رپورٹ میں الیکشن 2018 میں ہونے والی “منظم دھاندلی کی کوششوں” والے حصے پر ملک کے کسی ادارے کو ایکشن لینے کا خیال نہیں آیا۔ ایڈمرل جنرل آلہ دین نے الیکشن کے بعد جس “فراخ دلی” سے دھاندلی کی کھلی تحقیقات کا اعلان کیا تھا اس سے وہ یوٹرن لے گئے ہیں۔ اپوزیشن کے خلاف فیصلہ دینے والی نیب و دیگر کورٹس میں مشکوک افراد کی موجودگی اور فیصلے کسی پانچ ستارہ ہوٹل کے لفافے میں ججز تک پہنچانے کی بات ہوئی پھر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ یہاں تک کہ فیصلہ میں سزا سنانے والے جج کا ویڈیو اعترافی بیان پوری دنیا کے سامنے آگیا لیکن الٹا تحقیقات میں اٹھنے والا سب سے پہلا سوال یہ تھا کہ ویڈیو کس نے بنائی اور کیوں بنائی۔ (حضور جرم کے ارتکاب کے اعتراف کی ویڈیو اہم ہے یا ویڈیو بنانے والا؟)۔

ہائیکورٹ کے ایک جج نے الزام لگایا کہ مجھے “فنکاروں” نے پتلی بنانے کی کوشش کی، الٹا وہ جج ہی فارغ کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج نے فنکاروں کو اپنے کام سے کام رکھنے اور غیر آئینی حرکات میں ملوث مجرموں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ الٹا مجرم کو ترقی مل گئی اورشنید ہے کہ عنقریب وہ جج صاحب بھی فارغ ہوجائیں گے۔ ہائیکورٹ کے ایک جج نے کئی سال پہلے کے ایک قتل عام کی تحقیقات کا حکم دیا جس نے “فنکار” اور ان کی پتلیاں ملوث تھیں۔ بس کوئی دن جاتا ہے کہ وہ جج صاحب بھی فارغ ہوجائیں گے۔

فنکاروں نے ایک “دشمن” کو منشیات کیس میں اندر کیا تو ریمانڈ کی درخواست پر جج نے غلطی سے ثبوت مانگ لیے۔ بس اتنی سی گستاخی پر جج صاحب کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا گیا۔

لیکن جو کمال تازہ ترین واقعے میں ہوا ہے اس کی مثال اسلامی “جمہوریہ” واڈیا میں تو مل سکتی ہے لیکن دنیا کی کسی آمریت میں بھی وہ حساب کتاب ممکن نہیں۔ ابھی کل سینیٹ میں چئیرمن کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر رائے شماری ہوئی۔ حکومت کے پاس 35 بندے تھے اور اپوزیشن کے پاس 64. اب اگر میں آپ سے پوچھوں کہ 35 بڑا کہ 64 تو آپ غالباً 64 کو بڑا کہیں گے مگر جمہوریہ واڈیا میں 35 بڑا ہوتا ہے۔ واضع ہار ہوتی نظر آئی تو پتلیاں دم سادھ کر بیٹھ گئی تھیں مگر ابھی “فنکاروں” کا کھیل باقی تھا۔ الیکشن سے دو دن پہلے فنکاروں نے کچھ طنابیں کس دیں، کچھ طنابیں ڈھیلی کیں اور کچھ طنابوں کو ڈھیلا کرنے کا وعدہ کیا۔ (زرا نیب جج کی اعترافی ویڈیو سنیں، ہوبہو یہی بات کر رہے ہیں کہ کچھ تار وہ ٹائٹ کرتے ہیں اور کچھ ڈھیلی۔۔۔اس وقت تک جب تک ان کی مرضی کا ساز بجنا شروع نہیں ہوجاتا)۔ پھر کھلی آنکھوں نے یہ زندہ معجزہ دیکھا کہ نظروں کے سامنے کھڑے 64 لوگ یکایک 50 رہ گئے۔ 14 کدھر گئے یہ کسی کو پتہ نہیں۔ درمیان میں تھوڑی سی گڑبڑ ہوئی جب ایک پتلی کے کھلے ہوئے مائیک سے یہ آواز آئی “یہ تو گیا، یہ 54 ہوگئے ہیں۔ favor میں ہیں‘‘، پھر پتلی کو غلطی کا احساس ہوا اور یکایک مائیک بند ہوگیا۔ وہ بقیہ 4 ووٹ کدھر گئے یہ بھی کسی کو معلوم نہیں۔

بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا ہوگئی ہے ویسے۔ ملک کے سب سے بڑے اور باوقار ادارے سینیٹ میں چئیرمین کا الیکشن اس شان سے ہوا ہے کہ پوری دنیا تھو تھو کر رہی ہے۔ مجھے ہرگز اعتراض نا ہوتا اگر یہی فنکاری ایسے کی جاتی کہ کوئی بھرم رہ جاتا ادارے کے وقار کا۔ مگر شاید فنکاروں کی منشاء ہی یہ ہے کہ سسٹم اور اداروں کو اس حد تک بے توقیر کر دیا جائے کہ اپنے پرائے سب اس پر لعنت بھیجیں۔

قسم اٹھوا لیں کسی بچے سے کہ محلے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے باری کے تعین پر بھی اس نے کبھی ڈنڈی ماری ہوگی تو کم از کم اتنا ننگا ہوکر نہیں ماری ہوگی۔ کچھ ووٹ “مینج” کر لیے گئے، تعداد پوری نا ہوئی تو کچھ منسوخ کر دیے گئے اور پھر بھی مطلوبہ رزلٹ نا نکلے تو کیا فرق پڑتا ہے؟ نتیجہ تو پہلے سے بنا بنایا پڑا ہوا ہے صرف اعلان ہی ہونا تھا۔

اس معاملے میں سب سے مضحکہ خیز حالت جملہ اہل یوتھ کی ہے۔ آپ ان کا معکوس فکری ارتقاء ملاحظہ کریں۔ 2017 تک اہلیان یوتھ کا دعویٰ تھا کہ خاں صاحب نے مبینہ طور پر 22 سال جدوجہد کی ہے جس کی بنا پر وہ وزارتِ عظمیٰ کے صحیح حقدار ہیں۔ انتخابات قریب آئے اور یہ احساس بڑھنا شروع ہوا کہ خاں صاحب اپنے بل بوتے پر تو 2013 جتنی نشتیں بھی نہیں لے سکتے تو شرمندہ بیان کچھ یوں تبدیل ہوا کہ ’’اکیلا خان ہے تو ووٹ حاضر ہے اور اگر خان کے پیچھے وردی ہے تو جان بھی حاضر ہے۔‘‘

اب لگ بھگ ایک سال گزرنے کے بعد جب یہ حقیقت مکمل طور پر آشکار ہوچکی ہے کہ ’’اکیلا خان‘‘ محض ایک مفروضہ، وہم اور سراب ہے اور بنا وردی کے الیکشن تو درکنار، خاں صاحب بنی گالہ کا مقدمہ بھی نہیں جیت سکتے تو اب ڈھیٹ بیانیہ صرف اور صرف کرپشن کی گردان، قومی سلامتی کی گھسی پٹی کہانیوں اور تسلسل کی اہمیت پر رونے پیٹنے تک محدود رہ گیا ہے۔

اس ساری کشمکش کا انجام کیا ہوگا یہ مجھے معلوم نہیں۔ سول سپریمسی جیت جائے گی یا جیل میں سڑے گی یہ بھی معلوم نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ خاں صاحب 5-10 سال کے لیے مسلط کیے گئے ہیں یا پھر جلد فارغ ہوجائیں گے۔ میری پریشانی صرف اتنی ہے کہ مملکت “اسلامیہ جمہوریہ ” واڈیا میں معکوس ارتقاء سے ہم نے جن انسانوں کو بندروں میں تبدیل کردیا ہے، اس مارشل لائی دور کے اختتام پر ان بندروں کا ہم کیا کریں گے؟

112 COMMENTS

Comments are closed.