وقاص احمد

مثبت رپورٹنگ والے صحافی کامران خان آج کل بار بار”سول ملٹری ہائبرڈ نظام حکومت“  کی برکتوں کا ڈھنڈھورا پیٹتے نظر آرہے ہیں۔ جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ دیگر منافقینِ وقت کے برعکس، کامران خان نے اس نظام کو جمہوریت یا ڈیموکریسی کہنے کا لفظی تردّد بھی ختم کردیا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں باوجود کوشش کہ یہ ڈھونڈ نہیں پا رہا تھا کہ موجودہ نظام میں ہائیبرڈ فیچر (دو مختلف سسٹمز کا ملاپ) ہے کیا؟

خیر ایک دن ایک سڑک سے گزرتے ہوئے میں نے ”ہنڈریڈ روپیز شاپ“ کا بورڈ دیکھا۔ میں حیران  ہوا کہ کیا واقعی آج کے دور میں بھی سو روپے کی چیزیں ملتی ہیں؟ سو یہ دیکھنے کے لیئے اندر چلا گیا۔ پہلی چیز کو اٹھایا، قیمت 500 روپے، دوسری چیز 1100 روپے، تیسری چیز 450 روپے، چوتھی چیز 700 روپے۔ میں نے دکاندار کو بلا لیا اور پوچھا بھائی یہ ”ہنڈریڈ روپیز شاپ“ ہی ہے ناں؟ بولا جی ہاں! میں نے کہا پھر 100 روپے والی چیزیں کدھر ہیں؟ اس نے کہا سر 100 روپے کی تو یہاں کوئی چیز نہیں ہے۔ میں نے کہا پھر یہ باہر اتنا بڑا ”ہنڈریڈ روپیز شاپ“  کا بورڈ کیوں لٹکائے بیٹھے ہو؟  دکاندار بولا! سر یہ تو دکان کا نام ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ یہاں 100 روپے کی اشیاء بھی ملتی ہیں۔

تو صاحبو! میں نے دکاندار کو جپھی ڈالی اس کے دونوں ہاتھ چومے کہ اس کی بدولت مجھے میری الجھن کا جواب مل گیا۔ اسی لمحے مجھ پر منکشف ہوا کہ ”دکاندار کامران خان“ جس سول ملٹری ہائیبرڈ سسٹم کے قصیدے پڑھتا ہے، اس سسٹم کا خالی نام ہی ”سول ملٹری ہائیبرڈ“ ہے، ورنہ دکان کے اندر مارشل لاء ہی چل رہا ہے۔ جیسے سوزوکی مہران کے پیچھے ”ٹربو“ کا اسٹکر چپکادینے سے گاڑی کا انجن ”Turbo“ نہیں ہوجاتا، جس طرح چائنہ کی 70 سی سی موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر آپ اس کی پھٹی ہوئی آواز کو ہیوی بائیک کا متبادل نہیں کہہ سکتے، جس طرح گدھا گاڑی پر F-16 لکھنے سے گدھا mach 2 پر اڑنا شروع نہیں کردیتا اسی طرح بیچارے عمران کے گلے میں صرف وزیراعظم کی تختی لٹکا دینے سے نا وہ وزیراعظم بن گیا اور نہ ہی یہ سسٹم جمہوری۔

وزیراعظم کون ہے آئیے مل کر ڈھونڈتے ہیں! کیونکہ پہلے مجھے جن پر وزیراعظم ہونے کا شبہ تھا وہ آج کہتے ہیں کہ ہمارا تو سیاست سے تعلق ہی کوئی نہیں! اس لیئے ہمارے ادارے کو سیاست میں ملوث نہ کیا جائے۔

Previous articleعرب اسرائیل تعلقات اور فلسطین
Next article”شارٹ کٹ“ کا معاشرہ