پانچ اگست کے روز ایک منٹ کی خاموشی، سری نگر ہائی وے اور نئے ملی نغمہ پر عوامی رائے عامہ

عابدحسین دو اگست کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔ ہم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیں گے۔

اسمبلیاں اور ہمارے نمائندے

نبیل ابڑو ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ سیاست عبادت کی طرح ہی مقدس کام ہے۔ آپ سیاست کے ذریعے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں اور اس خدمت کی بدولت ہی لوگوں کی دعائیں حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر ابراہم لنکن کے برعکس موجودہ دور میں لوگ لوٹ کھسوٹ، کرپشن،

آزمائش شرط ہے!

وقاص احمد سیاسی/جمہوری تحفظات ایک طرف مگر ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ فوج کا نظام احتساب زبردست اور فعال ہے۔ بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ اپنے لوگوں کو اتنا دو کہ کہیں اور منہ نہ ماریں۔ ایک مختصر سا خاکہ جو اس احتسابی نظام

کمرے کا ہاتھی

 وقاص احمد ہندوستان کے ایک گاؤں میں ایک شخص کی حادثاتی موت واقع ہوگئی۔ متوفی پرادیپ کے ورثاء کا کہنا تھا کہ اس کو ایک پاگل ہاتھی نے کچل کر مارا ہے۔ اب آپ کو غالباً یہ معلوم ہوگا کہ ہندومذہب میں گنیش جی کی وجہ سے ہاتھی کو بھی ایک مقدس

دورِ بے ہنراں

 وقاراحمد صدیقی احباب جب کبھی معاشرے میں سرایت کرگئی شدت پسندی و عدم برداشت کا نوحہ پڑھتے ہیں تو راقم کا جواب ہوتا ہے کہ عصرِ حاضر شدت پسندی و عدم برداشت سے بڑھ کر جہالت و بےشعوری کی عزت، تعظیم و تکریم کا دور ہے۔ عبیداللہ علیم نے کیا اچھا

اٹھارویں آئینی ترمیم اور وردی پوشوں کی خواہش

 عابدحسین پاکستانی سیاست میں فوج کا کردار اور مداخلت   کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ حکمرانی بھی فوجی آمروں نے کی ہے۔ سول اور فوجی بیوروکریسی کی گٹھ جوڑ ہو، انتخابات میں دھاندلی ہو، انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا

انقلاب کا سراب

 وقاراحمدصدیقی گزشتہ دنوں سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری صاحب کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو نے بحرِسیاست میں ایک ہلکا سا ارتعاش پیدا کیا۔ بعض حلقوں نے یہ   امکان ظاہر کیا کہ اس انٹرویو میں وزیر صاحب نے حکومت کو 6 ماہ کی

پاکستانی اور بھارتی حکمران سن لیں!

ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ ہمیں تو پچھلے 73 سال سے پڑوسی ملک پاکستان کے  حکمرانوں، بالادست طاقتوں کی جموں وکشمیر کے بارے میں پالیسی کا بخوبی علم ہے، کہ کیسے  اکتوبر 1947 سے لےکر تاحال کشمیری عوام کے جذبات سے کھلواڑ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ

نسیم حجازی سے ارتغرل غازی تک – ایک حقیقت سو افسانے

 وقار احمد صدیقی گزشتہ دنوں ڈرامہ سیریل ارتغرل کی سرکاری ٹی وی چینل سے اردو ڈبنگ کے ساتھ ٹیلی کاسٹ نے پہلے سے منقسم پاکستانی معاشرے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ توقع کے عین مطابق بحث نے وہ رخ اختیار کیا جہاں مذکورہ ڈرامے کو نشر کیئے

مکالمہ: جبری شادی و مذہب تبدیلی

 شیزا نذیر فوٹوگرافی کی کلاس میں مَیں نے نوٹ کیا کہ شیرل اور عائشہ آج پھر کسی الجھن کا شکار ہیں۔ کیفے ٹیریا کی طرف جاتے ہوئے مَیں نے کہا  ”تم دونوں میں سے پہلے کون بکواس کرے گا کہ اُس کو کیا تکلیف ہے؟“ اور ہمیشہ کی طرح عائشہ بولنے لگی،