جوتا، جمہوریت اور ”جنرل ازم“

وقاص احمد ”میاں صاحب کیا آپ بتائیں گے کہ کارگل واقعے کا اصل مجرم کون ہے؟ جی میں کیا بتاؤں، ساری قوم کو پتا ہے۔ آپ بتائیں کون تھے وہ لوگ جو اپنے وزیراعظم کو دھوکے میں رکھ کر یہ حرکتیں کر رہے تھے، آپ بولیے ؟ خواجہ صاحب! کیا آپ

جرم

محمد احسن قریشی شاکا: تم  نٸے پاکستان میں  ہاتھ منہ پر رکھے  کیوں بیٹھے ہو؟ ”میں جلد کسی وڈیرے، جاگیردار، حوالدار یا ”ادارے“ کے ہاتھوں قتل یا لاپتہ کر دیا جاؤں گا“، کاکا کے چہرے پہ پریشانی واضح تھی۔

اس ڈنڈے کے سائے تلے سب ایک ہیں

 عابدحسین دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے بانی بھی کسی وقت میں فوجی جرنیل کے چہیتے تھے، ہاں بعد میں انہوں نے اپنی پارٹی قائم کی۔ نون لیگ کے بانی کو تو لاٶنچ ہی فوجی جرنیل نے کیا تھا۔ ”تاریک وطویل“ انصاف والے تو ”ان“ کی مرضی

غلطی کا احساس

 وقاص احمد ”دیکھو! فوج ایک محب الوطن محکمہ ہے...“ ابھی ان کا جملہ نامکمل ہی تھا کہ میں ترکی بہ ترکی بولا ”تو کیا محکمہ ڈاک سے لے کر محمکہ ریلوے تک اور پولیس سے لیکر کسٹمز تک بقیہ محمکے غدار اور وطن فروش ہیں؟“ اچھی بھلی محفل تھی،

مملکتِ فوجستان

عابدحسین ویسے تو مملکت خداداد کی تاریخ میں عدالتوں اور ججوں کے ساتھ آمروں نے بہت کچھ کیا ہے اور زبردستی کئی فیصلے منواۓ ہیں، اپنا حکم مسلط کرنے، دھمکیاں دینے اور زدوکوب کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ چاہے وہ آمریت کے حق میں فیصلہ

سانحہ اے پی ایس کے مظلومو! ہم تمہیں بھولنا چاہتے ہیں

عابدحسین سانحہ اے پی ایس کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بہت کچھ بولا جا چکا ہے، بہت باتیں ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ یہ ایک ناقابل فراموش سانحہ ہے اور اگر بھولنا چاہیں تب بھی نہیں بھول سکتے کیونکہ بہ حثیت قوم و ریاست کے یہ ہمیشہ ہمارے

مجھے انصاف چاہیئے! "ریاستی قانون اور عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ”

 عابد حسین  تین دن پہلے ایک دوست نے ایک ویڈیو واٹس ایپ کی۔ اب تو یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہے۔ ویڈیو ڈسٹرکٹ کورٹ نوشہرہ (خیبر پجتونخواہ) کی ہے۔ اس میں ایک سفید داڑھی والے بزرگ روتے اور چیختے ہوئے انصاف مانگ رہیں ہیں۔ بزرگ کا

اسٹیبلشمنٹ، طلباء یکجہتی مارچ اور کچھ خدشات

 تسمیہ شفیق پاکستانی سیاست پیاز جیسی ہے پرت در پرت، تہہ میں کیا موجود ہے جاننے کے لئے کھولتے جائیں اور روتے جائیں۔ طلباء یکجہتی مارچ ایک کامیاب شو رہا۔ اب پاکستان میں ہوتا یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر پتّا بھی نہیں ہلتا تو پھر یہ

"مائی باپ کے مائی باپ”

وقاص احمد مملکت ناپرساں میں "مائی لارڈ" اور "مائی باپ" دو ایسی مقدس ہستیاں ہیں جن کو "معصوم عن الخطا" اور "مقدس" تصور کیا جاتا ہے۔ ہرچندکہ ان کے مبینہ تقدس کی بنیاد کسی ان دیکھی روحانیت پر نہیں بلکہ ان کی نقصان پہنچانے کی

طلباء یونین کی بحالی اور قانون سازی

 تسمیہ شفیق  طلباء یونین کو ایک سیاسی نرسری سمجھا جاتا ہے جو طلباء کو سیاسی عمل سمجھانے میں معاونت کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ پینتیس سال سے اِس پر پابندی عائد ہے۔ ایک پوری نسل فارغ التحصیل ہوگئی لیکن عملی سیاست سے بلکل