عاطف توقیر کی نظم ’’کھوٹا سکہ‘‘

0
2172

عاطف توقیر کی نظم ’’کھوٹا سکہ

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بہ حیثیت قوم اپنی ثقافت، اپنی تہذیب اور تمدن ہی فراموش کر چکے ہیں۔ وہ دھرتی جسے آج پاکستان کہا جاتا ہے، یہ انسانی تاریخ اور تہذیب کے قدیم ترین علاقوں میں سے ایک ہے، مگر ان پچھلے ستر برسوں میں علم، ثقافت اور تمدن کے ساتھ جو کچھ کیا گیا ہے ناقابل بیان ہے۔

ریاسی مشنری پوری قوت سے ہمارے بچوں کو کھوٹے سکوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے، ایسے کھوٹے سکے جن کی پشت پر قدیم دور کے خلاف کی طرح حکومتی مہر تو ثبت ہے، مگر چہرے سے عدد اور پہچان غائب۔ کھوٹٓ سکہ اسی بربادی کا نوحہ ہے۔

Previous articleطوائف ایک مثالی کردار
Next articleڈاکٹر عاصم حسین کی دوبارہ تقرری یا پاکستان پیپلز پارٹی کا قحط الرجال

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here