تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

 ارشد سلہری پاکستان میں خوف کا بیانیہ انتہائی مقبول ہے۔ خوف غیرقانونی حکومتوں کا کارگر ہتھیار ہے۔ جنرل ضیاء نے اقتدار پرقبضہ تو کرلیا تھا مگر مرتے دم تک خوف میں رہے تھے۔ اسی خوف کو انہوں نے اپنا ہتھیار بنایا اور خوف کو اسلامی لبادہ پہناکر

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 377 کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟

 ارشد سلہری پاکستان میں خوف کا بیانیہ انتہائی مقبول ہے۔ خوف غیرقانونی حکومتوں کا کارگر ہتھیار ہے۔ جنرل ضیاء نے اقتدار پرقبضہ تو کرلیا تھا مگر مرتے دم تک خوف میں رہے تھے۔ اسی خوف کو انہوں نے اپنا ہتھیار بنایا اور خوف کو اسلامی لبادہ پہناکر

ڈی۔ایل۔ایس۔آر کے ساتھ میری پہلی پہلی آوارگی

شیزا نذیر میں لوگوں کے سیلفی لینے کے جنون کو دیکھ کر اکثر حیران ہو جاتی ہوں، جب وہ خوبصورت مناظر کو دیکھنے کے بجائے سارا وقت سیلفیاں لینے میں گزار دیتے ہیں اور بعد میں پکچرز دیکھتے ہوئے حیران ہوتے ہیں کہ دیکھو پیچھے کتنا پیارا منظر

پاکستان سیاسی بے راہ روی سے جنسی بے راہ روی تک

 ارشدسلہری جنسی بے راہ روی  مذاہب کی لغت میں کبیرہ گناہ ہے۔ اسلام میں اس کو بدترین فعل قراردیا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جس قدر مذہب کا رجحان پایا جاتا ہے اس سے زیادہ جنسی بے راہ روی کی بہتات ہے۔ مذہبی مقامات  ہم جنس پرستی کے محفوظ

افغان سہ فریقی مذاکرات، کس کی جیت کس کی ہار؟

 عابدحسین دوحہ قطر میں افغان سہ فریقی مذاکرات جاری ہیں۔ جس میں افغان امن عمل، امریکی اور اتحادی افواج کا انخلاء اور طالبان کو اقتدار میں حصہ دینے سمیت افغان عوام کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کانفرنس کے دوسرے روز ہی امریکہ اور منتخب

پاکستان میں تعلیم سے وابستہ چینلز کا فقدان

جہانگیرضیاء پاکستان میں گزشتہ بیس سالوں میں میڈیا نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ہمارے ٹی وی چینلز ہیں۔ پچھلے دور کی بات ہے کہ صرف ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا۔ اُسی پہ زندگی کے تمام شعبہ جات و موضوعات کے حوالے سے

معاشرہ، سیکس اور ریپسٹ

 تہذیب خان گزشتہ دنوں ہوۓ کچھ زیادتی کے سانحوں سے عوام سوشل میڈیا میں ایک شدید غصے کی لہر چل رہی ہے اور ان کا یہ ردعمل کیوں کر نہ ہو؟  پاکستانیوں کا ایسا کوئی دن نہیں جاتا جب وہ ریاست کو گالی نہیں دیتے۔ آپ کا ٹیکس، آپ کی معیاری تعلیم،

معاشرہ، سیکس اور ریپسٹ

 تہذیب خان گزشتہ دنوں ہوۓ کچھ زیادتی کے سانحوں سے عوام سوشل میڈیا میں ایک شدید غصے کی لہر چل رہی ہے اور ان کا یہ ردعمل کیوں کر نہ ہو؟  پاکستانیوں کا ایسا کوئی دن نہیں جاتا جب وہ ریاست کو گالی نہیں دیتے۔ آپ کا ٹیکس، آپ کی معیاری تعلیم،

ہم خیال سیاسی کارکن امید کی شمع روشن کر سکتے ہیں

 ارشدسلہری سیاست اور انقلابات عہد کے ہوتے ہیں۔ ہر عہد کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ سمجھ دارسیاسی کارکن اپنی سیاسی حکمت عملی، عہد کے تقاضوں کومد نظر رکھ کر بناتے ہیں اور اپنی سیاست کو جدید حالات سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔ نظام بدلنے اور انسانی

تم گھر سے باہر نکلتی ہی کیوں ہو؟

مہنازاختر لڑکیو! مشینی جانگیوں اور بریزروں کا استعمال شروع کردو! کہ جیسے کوئی تمہاری چھاتی یا کولہوں پر ہاتھ پھیرے، اسے ہائی وولٹیج کا کرنٹ لگے اور اگر ایسی مصنوعات بازار میں دستیاب نہیں یا تمہاری دسترس میں نہیں تو پھر