کرونا وباء ، میڈیکل ایمرجنسی اور لاک ڈاؤن

عابد حسین کرونا وائرس کی وباء نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کرونا کے حوالے سے سائنسدانوں، میڈیکل سائنسز اور شعبہ صحت سے وابستہ افراد نے تمام  تر معلومات بروقت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کرونا

عورت مارچ پر سنجیدہ مکالمت وقت کی اہم ضرورت ہے

مہنازاختر خدا خدا کرکے عورت مارچ کا دن اس مرتبہ تقریباً و نسبتاً خیریت سے گزر گیا سوائے ایک انتہائی ناخوش گوار واقعے کے۔ گزشتہ برس کی نسبت اس برس سارے ڈھول باجے، فتوے بازیاں، گالم گلوچ اور الزامات کی پٹاریاں مارچ سے پہلے ہی کھلی

ہم کیا چاہتے ہیں؟ آزادی

عاطف توقیر کہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان سن 1947 میں برطانوی قبضے سے آزاد ہو گئے تھے۔ ان دونوں ملکوں میں ہر سال چودھویں اور پندھرویں اگست کو یوم آزادی بھی منایا جاتا ہے۔ مگر کاش کہ یوم آزادی منانے یا غیرملکی نوآبادیاتی طاقت کے چلے…

عورت مارچ خواب یا سراب

ماریا رضوی ہماری ایک کنسلٹنٹ دوست نے پچھلے دنوں ہمیں اپنی "پہلی" شادی پر مدعو کیا۔ عمر ٥٢ سال، پہلے تعلق سے دو بچے، بیٹی ١٨ کی ہو گئی تو اب ماں کی ذمہ داری نہیں ہے اور دوسری بیٹی ہائی اسکول میں پڑھتی ہے اور کچھ سال بعد وہ

ہمارے مغالطے

وقاص احمد اگر میں کوئی زبان دان ہوتا تو دو چار حروف میں آپ کو سمجھا دیتا کہ لفظ "مغالطہ" کس لفظ سے نکلا ہے یا وہ لفظ کس زبان سے آیا ہے اور اس زبان میں اسکے معنی کیا تھے لیکن چونکہ یہ مغالطہ مجھے ہرگز نہیں ہے اس لیئے میں آپ

ویلنٹائن ڈے! انسانی رشتوں پر پیار لٹانے کا دن

 عفاف اظہر ہم وقت کے تیز بہاؤ کے ساتھ بہنے کی بجائے ہمیشہ اسکے آگے بند باندھ کر یوں کھڑے ہو جاتے ہیں کہ گویا ہماری بے جا کی مخالفت سے وقت ٹہر جائے گا، پانی کا یہ تیز بہاؤ ہمارے خوف سے اپنا رخ بدل لے گا یا پھر یہ دنیا ہماری متعصبانہ سوچ و

سی سیکشن / بڑا آپریشن

 عفاف اظہر سی سیکشن یعنی بڑے آپریشن سے بچے کی پیدائش کا رجحان پاکستان میں خوفناک حد تک ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ غیرذمہ دار رویے اسکو کہیں سرمایہ کاری سے جوڑتے ہیں تو کہیں عورت کی کمزور صحت سے۔ حالانکہ دونوں آراء ہی ایک

شاید کچھ نیا ہونے جارہا ہے !

 عابد حسین استاد محترم جناب پروفیسر وسیم خٹک صاحب نے "شاید کچھ نیا ہونے جارہا ہے"  کے عنوان کے ساتھ تحریک طالبان پاکستان احرار گروپ کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا ایک آڈیو پیغام شیئر کیا تھا جس میں احسان اللہ احسان نے پہلے

جوتا، جمہوریت اور ”جنرل ازم“

وقاص احمد ”میاں صاحب کیا آپ بتائیں گے کہ کارگل واقعے کا اصل مجرم کون ہے؟ جی میں کیا بتاؤں، ساری قوم کو پتا ہے۔ آپ بتائیں کون تھے وہ لوگ جو اپنے وزیراعظم کو دھوکے میں رکھ کر یہ حرکتیں کر رہے تھے، آپ بولیے ؟ خواجہ صاحب! کیا آپ

جرم

محمد احسن قریشی شاکا: تم  نٸے پاکستان میں  ہاتھ منہ پر رکھے  کیوں بیٹھے ہو؟ ”میں جلد کسی وڈیرے، جاگیردار، حوالدار یا ”ادارے“ کے ہاتھوں قتل یا لاپتہ کر دیا جاؤں گا“، کاکا کے چہرے پہ پریشانی واضح تھی۔